7 اگست 2011 - 19:30

لندن پولیس کو ہائي الرٹ کئے جانےکے باوجود بھی اتوار کی رات شمالی لندن میں لوٹ مارے کے واقعات ہوتے رہے۔

ابنا: شمالی لندن کے علاقے ٹاٹنہم میں چند دنوں قبل شروع ہونےوالے فسادات کے بعد اس علاقے میں پولیس کی نفری تعینات کردی گئی تھی اور پولیس کو پوری طرح چوکس کردیا گيا تھا۔ لندن پولیس کے اس اعلان کے بعد بھی کہ متاثرہ علاقوں میں پولیس کی مزید نفری بھیج دی گئي ہے پولیس رات بھر سڑکوں پر گشت کرتی رہے گي اور ہرطرح کی بدامنی سے مقابلہ کرے گي، ان فیلڈ کے علاقے میں اکا دکا لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔
ادھر لندن پولیس نے کہا ہے کہ اس نے ٹاٹنہم کے واقعات کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ لندن پولیس کے ایک اعلی افسر نے کہا کہ پولیس نے ان واقعات کی حقیقت جاننے کے لے اسپیشل کاروائياں شروع کردی ہیں۔
قابل ذکر ہے ٹاٹنہم کے لوگ پولیس کو اس علاقے میں ہونے والے فسادات کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
ادھر ایک سیاسی مبصر نے کہا ہے کہ ٹاٹنہم کے فسادات پولیس کے ہاتھوں نوجوانون پر تشدد کا نتیجہ ہیں۔ کریس بینبری نے پریس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی پولیس نےگذشتہ تیس برسوں میں ایک اجنبی فورس کی طرح نوجوانوں کے خلاف رویہ اختیار کیا ہے جس کے نتیجے میں نوجوانوں نے فسادات اور مسلحانہ جرائم کا راستہ اختیار کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں سیاہ فام نوجوانوں میں بےروزگاری، جس کی شرخ بہت زیادہ ہے، اس کا ایک سبب ہے جس سے یہ نوجوان فسادات پر اتر آئے ہیں۔
..............

/169